ہم کہاں کھڑے ہیں؟
محمد اویس پراچہ
=====================
غالباً 2018 کی بات ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت بنے چند ماہ ہی ہوئے تھے۔ ایک دوست کے ساتھ معاشی پالیسیز پر گرما گرم بحث چل رہی تھی۔ وہ کہنے لگے: "گزشتہ حکومت میں جی ڈی پی بے شک زیادہ تھی لیکن کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور بیرونی قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ تھا۔ ہم دیوالیہ ہونے والے تھے۔ اس گورنمنٹ نے ڈالر کی قیمت کو آزاد چھوڑا ہے تاکہ یہ خسارہ کم ہو اور قرض اتر سکے۔" عرض کیا: "کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ اگر توجہ اسی طرف رہی تو پانچ سال بعد اس سے بھی بری حالت ہوگی۔"
گزشتہ کل یہی حالت دیکھنے لگا تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ سیاست کو ایک جانب رکھیے لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ خان صاحب بیرونی سازش پر اپنی کمپین کیوں چلا رہے ہیں؟ قرض اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا اب ذکر بھی کیوں نہیں کرتے؟ آئیے! میں آپ کو دکھاتا ہوں:
پہلی تصویر ہے پاکستان کے بیرونی ممالک سے لیے گئے قرض کی۔ یہ قرض 2018 میں اسی نوے ہزار ملین ڈالر کے قریب تھا اور اب ایک لاکھ تیس ہزار ملین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ یہ رقم کل قرض کی ہے، یعنی اگر اس مدت میں بالفرض کوئی پچھلا قرض ادا کیا گیا ہے تو وہ مائنس کر کے بھی یہ اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ رقم ڈالر میں ہے، یعنی ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے یہ نہیں بڑھی بلکہ حقیقت میں اتنا اضافہ ہوا ہے۔
دوسری تصویر ہے فارن ایکسچینج ریزرو کی یعنی قرض کے مقابلے میں ہماری جیب میں کتنے پیسے ہیں؟ یہ 2018 میں بیس ہزار ملین ڈالر کے قریب تھے۔ پھر اس دور حکومت میں انہیں پانی کی طرح بہایا گیا۔ اس کے بعد سبسڈیز ختم کر کے مہنگائی کی گئی اور اب یہ بائیس ہزار ملین ڈالر کے قریب ہیں۔ یہ پچیس ہزار سے بڑھ گئے تھے لیکن پھر کم ہو گئے۔
تیسری تصویر ہے ملک کے اندرونی قرضوں کی۔ یہ بھی ڈبل ہو گئے ہیں۔ بیس ہزار بلین روپے سے چالیس ہزار بلین روپے۔ اب سوال یہ ہے کہ قرض اتنا ہے، فارن ایکسچینج ریزرو ہے نہیں، ترقیاتی بڑے پراجیکٹ نظر نہیں آ رہے، سبسڈیز ختم کی ہوئی ہیں تو یہ قرض گیا کہاں؟ خیر چھوڑیں۔ قرض کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ کمائی ہو رہی ہو۔ یہاں انصافی بھائیوں کا دن رات کا دعوی ہوتا ہے کہ اس دور میں ایکسپورٹس زیادہ ہوئی ہیں۔
چوتھی تصویر ہے پاکستان کی ایکسپورٹس کی۔ یہ بلاشبہ بڑھی ہیں لیکن اتنی نہیں جتنی چارٹ میں نظر آ رہی ہیں کیوں کہ چارٹ پاکستانی روپے میں ہے۔ یہ 2018 میں اس وقت کے ڈالر ریٹ کے مطابق 1.3 بلین ڈالر کے قریب تھیں اور اب 2.6 بلین ہیں۔ یعنی دوگنی ہوئی ہیں۔
لیکن اس سے پہلے کہ کندھا تھپتھپایا جائے، یہ سوچیے کہ ایکسپورٹس اتنی بڑھنے کے باوجود فارن ایکسچینج کیوں نہیں آ رہا؟ اس کا جواب ہے پانچویں تصویر میں جو ٹریڈ بیلنس یا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بتا رہی ہے۔ یہ خسارہ 2018 تک کبھی بھی چار لاکھ ملین پاکستانی روپے سے نہیں بڑھا تھا لیکن 2021 میں یہ نو لاکھ ملین کے قریب پہنچ گیا۔ یعنی پاکستان کی امپورٹس اس کی ایکسپورٹس سے بہت ہی زیادہ ہوئی ہیں جس پر خان صاحب اپنے اپوزیشن کے دور میں آواز اٹھایا کرتے تھے
۔
اچھا نہ جانے ہمارے انصافی بھائیوں کو کس نے یہ سبق رٹوایا ہے کہ معیشت کی ہر بات پر کروونا اور پیٹرول کی قیمتوں کی بات کرنی چاہیے۔ کورونا کے دنوں میں تو عالمی تجارت ہی بند تھی تو ہم کیا مریض امپورٹ کر رہے تھے؟ اسی لیے 2020 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہے کیوں کہ امپورٹس نہیں ہو رہی تھیں۔ اور تیل کی قیمتوں کے لیے چھٹی تصویر دیکھیے۔ 2013 میں قیمتیں 2021 کے مقابلے میں کافی زیادہ تھیں لیکن کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پھر بھی کم تھا۔ 2021 میں تو نارمل قیمت تھی، پھر بھی خسارہ اتنا ہے۔
رکیے! کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ یہ قرض عوام پر لگا ہوگا اور ترقی کی وجہ سے ان کی آمدن بڑھ گئی ہوگی؟ اس کے لیے ساتویں، آٹھویں اور نویں تصویر میں پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کی جی ڈی پی دیکھیے۔ یہ بھی کم ہے۔ باقی دو ملکوں کی اس لیے دی ہے کہ انصافی بھائی یہ دعوی نہ کریں کہ یہ کمی کورونا کی وجہ سے آئی ہے۔ ہمارے یہاں کمی 2019 میں کورونا سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔ اور بنگلہ دیش کو تو بالکل نہیں دیکھیے گا، ہارٹ اٹیک ہی نہ آ جائے۔ پاکستان کو اس سے نیچے گرا دیا ہے اس دور میں۔
تو بھائیو! اب جب جی ڈی پی بھی تباہ ہے اور خسارہ بھی بہت ہے تو جو اگلی حکومت آئے گی وہ یہ قرض کہاں سے ادا کرے گی اور ملک کو کیسے درست راستے پر لائے گی؟ کم از کم میں نہیں جانتا۔ یہ نقصان جو پہنچ چکا ہے، یہ تو شاید طویل عرصے میں بھی پورا نہ ہو پائے۔ اس کے ساتھ گورنمنٹ سنبھالنا سیاسی خود کشی ہے اور مجھے حیرت ہے کہ مسلم لیگ ن یہ خود کشی کیا سوچ کر کر رہی ہے؟ پی پی نے تو ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔
بہرحال اپنی سیاست یہ لوگ خود جانیں۔ میرا مقصد اس ملک کی موجودہ معاشی حالت دکھانا تھا اور ساتھ میں یہ سمجھانا بھی کہ مختلف چیزوں کو ملا کر تجزیہ کیسے کرتے ہیں؟ اگر ہم یہ سمجھ جائیں تو امید ہے کہ سیاست دانوں کے جھوٹے نعروں پر یقین کرنا چھوڑ دیں گے۔ اور ہاں! خط والی غیر ملکی سازش پر بھی۔ آپ نے اس ملک میں کون سی بہاریں پیدا کر دی ہیں جو امریکہ آپ سے خوف زدہ ہے؟ آپ نے تو اس معاشی صورت حال کے ساتھ ملک کو ایک دھکے کا مہمان بنا دیا ہے۔ انڈیا کی تعریفیں کرنے کے بجائے اس کی جی ڈی پی دیکھ لیں، یہ دھکا وہی نہ دے دے۔
Tags:
متفرق خیالات