مسائل زر(currency)


مسائل زر

currency


مکمل انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے! کوئی بھی ایسی کرنسی تا دیر نہیں چل سکی جس میں انفلیشن ہوتی ہو یعنی

اس کی مقدار اس کی طلب کے مقابلے میں تیزی سے بڑھتی ہو۔

غالباً فجی کے جزائر میں وہیل مچھلی کے دانت بطور کرنسی استعمال ہوتے تھے۔ لوگوں نے جعلی بنانے شروع کر دیے تو مقدار بڑھنے لگی۔ چنانچہ وہ کرنسی ختم ہو گئی۔ جاپان میں چاول کرنسی کے طور پر استعمال ہوئے۔ زمین سے اگتے تھے تو مقدار بڑھی اور کرنسی نہ رہے۔ مصر میں فرعونوں کے دور میں اناج بطور کرنسی استعمال ہوا اور باقاعدہ بینک بھی بنے۔ مقدار بڑھتی تھی، کرنسی ختم ہو گئی۔ چین نے تو نوٹ بنائے تھے اور چار پانچ سو سال تک چلائے لیکن بدترین انفلیشن کے بعد ختم ہو گئے۔ یورپ میں فوجیوں کو بطور تنخواہ نمک دیا گیا لیکن نکلتا زیادہ تھا تو کرنسی ختم ہو گئی۔
اس کے مقابلے میں آپ سونے، چاندی اور تانبے کو دیکھیے۔ ان کی سپلائی بڑھتی ہے لیکن کم رفتار سے۔ نکالنے پر مشقت زیادہ ہوتی ہے۔ لوگوں کی آبادی اور اس کی طلب تیزی سے بڑھتی ہے۔ لہذا یہ ہر زمانے میں کرنسی رہے اور دنیا گھوم کر واپس ان پر آتی رہی۔ پھر آخر کس بنیاد پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ کرنسی سسٹم برقرار رہے گا؟ اس نے بھی جلد یا بدیر ٹوٹنا ہی ہے۔ جس طرح کرنسی نوٹ کے ٹوٹنے نے عظیم چین کو بہا دیا تھا اسی طرح یہ بھی سب کو بہا کر لے جائے گا۔ ہوشیار وہ ہوں گے جو اس سے پہلے ہی کسی بغیر انفلیشن کی کرنسی پر نظام مرتب کر چکے ہوں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post